9 فروری 2011 - 20:30

مصری عوام اپنی موجودہ حکومت کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے، امریکہ کی مکمل کاسہ لیسی کے سبب سے احساسِ ذلت کرتے ہیں، احساسِ حقارت کرتے ہیں۔ اس تحریک کا اصل عامل یہی ہے۔

دوسرا خطبہ:
ایک بار پھر معزز بھائیوں اور بہنوں کو اور اپنے آپ کو تقویٰ پر عمل کی تاکید کرتا ہوں۔

سچا زلزلہ

چند منٹ مصر اور تیونس میں جو حوادث پیش آرہے ہیں، ان کے بارے میں کچھ نکات عرض کرتا ہوں۔ یہ حوادث بہت اہمیت رکھتے ہیں؛ ایک سچا زلزلہ ہے۔ اگر ملتِ مصر، اللہ کی مدد سے، خدا کی توفیق سے اس کام کو آگے لے جائے، تو جو کچھ خطے میں امریکی سیاست کے لیے پیش آئے گا، وہ ایک ناقابلِ برداشت شکست ہوگی۔ ان واقعات کی وجہ سے آج شاید مصر کے اور تیونس کے مفرور حکمرانوں سے زیادہ پریشان اسرائیلی ہیں۔ اسرائیلی اور صیہونی دشمن سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ اگر مصر ان کے ساتھ تعاون ختم کردے اور اپنے حقیقی مقام پر کھڑا ہو جائے تو اس خطے میں کتنا عظیم حادثہ واقع ہو جائے گا؛ وہی باتیں جنہیں امام پہلے ہی دیکھ رہے تھے، واقع ہو جائیں گی۔ لہذا یہ واقعات، غیر معمولی طور پر اہم ہیں۔
موجودہ تحریک کا اصلی سبب
عالمی جائزوں میں اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس تحریک کے اصلی عامل کو نظرانداز کر دیا جائے۔ اشارہ کرتے ہیں اقتصادی و غیر اقتصادی مسائل کی جانب ۔۔ جو بجائے خود مؤثر ہیں ۔۔ لیکن اس عظیم عوامی تحریک، پہلے تیونس میں اور پھر اس کا عروج مصر میں، کا اصلی سبب وہ احساسِ ذلت ہے جو لوگوں کے اندر اپنے حکمرانوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ لوگ ذلیل ہوئے، انہیں محسوس ہوا کہ ان کی توہین ہوئی ہے۔ مصر کے اس نامبارک نے ملتِ مصر کو ذلیل کردیا۔
تیونس میں اسلام کی مخالفت
پہلے کچھ ذکر تیونس کا کردوں۔ تیونس کا یہ مفرور صدر، یہ بن علی، پوری طرح امریکہ سے وابستہ تھا؛ یہاں تک کہ ہمارے پاس رپورٹ ہے کہ وہ امریکہ کے جاسوسی ادارے سی آئی اے کا ایجنٹ تھا! دیکھ لیجئے، ایک ملت کے لیے کس قدر سخت ہے کہ اس کا صدر، وہ بھی غرور و تکبر کا مرقع صدر ۔۔ کہ وہ بری طرح سے غرور و تکبر کا شکار تھا ۔۔ سی آئی اے کا باقاعدہ نوکر ہو۔ اس نے کئی سال بڑے کرو فر کے ساتھ لوگوں پر حکومت کی؛ عوام کی مصلحت کے خلاف، منجملہ دین کے خلاف۔ تیونس میں جو کہ ایک مسلمان ملک ہے اور طویل اسلامی ماضی رکھتا ہے اور اسلامی تہذیب میں تیونس سے عظیم افراد بھی برآمد ہوئے ہیں، وہاں کے لوگ بن علی کے دور میں اگر مسجد میں جانا چاہتے تھے، تو انہیں مخصوص کارڈ رکھنا پڑتا تھا؛ مسجد میں جانے کا کارڈ' جو حکومت دیا کرتی تھی اور سب کو دیتی بھی نہیں تھی! مسجد میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ نمازِ جماعت کی اجازت تو دور کی بات، فرادیٰ نماز بھی مسجد میں پڑھنا ممنوع تھا؛ کھلے عام ممنوع تھا۔ حجاب پر باقاعدہ پابندی تھی۔ ان لوگوں کے جذبے کا ایک سبب اسلام خواہی ہے۔ مغربی تجزیہ نگار اسے چھپانا چاہتے ہیں۔
ایک اور سبب امریکہ کے ساتھ وابستگی ہے، جو کہ بہت اہم ہے۔ امریکی نہیں چاہتے کہ یہ کہا جائے کہ ابتداء میں تیونس کے لوگوں کی تحریک اور اب مصر میں اس تحریک کے عروج کا سبب وابستگی ہے۔ یہ اس کی اصل حقیقت ہے۔ البتہ تیونس میں ایک سطحی تبدیلی آگئی۔ بن علی فرار ہوگیا، لیکن اسی کے لوگ ابھی تک اقتدار میں ہیں۔ خدا کرے کہ تیونس کے لوگ اپنے حالات کا بغور جائزہ لیں۔ مبادا، خدا نہ کرے دشمن ان کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائے۔
مصر کی اہمیت
اور اب مصر۔ مصر بہت اہم ملک ہے۔ میں چند مختصر نکات عرض کرتا ہوں۔ مصر سب سے پہلا اسلامی ملک ہے جو مغربی ثقافت سے واقف ہوا۔ اٹھارویں صدی کا اختتام مغربی تہذیب و ثقافت سے مصر کی آشنائی کا آغاز تھا، تمام ممالک سے پہلے۔ اسلامی ممالک میں سے مصر پہلا ملک تھا جو یورپی تہذیب سے آشنا ہوا اور پہلا اسلامی ملک تھا جو یورپی اور مغربی تہذیب کے مقابلے میں اٹھا اور اس کے عیوب کو پہچان کر اس کا سامنا کیا۔ عظیم سید جمال الدین، وہ عظیم اسلام خواہ، بہادر، مجاہد، اس نے اپنی جدوجہد کے لیے جو بہترین جگہ پائی وہ مصر تھا؛ ان کے بعد ان کے شاگرد محمد عبدہ وغیرہ۔ مصر میں اسلام خواہی کی تحریک کا یہ ماضی ہے۔ مصری عظیم تشخص کے مالک ہیں، سیاسی لحاظ سے، تہذیبی لحاظ سے؛ سب حریت پسند۔ فکری و سیاسی حوالے سے مصر بن گیا عرب دنیا کا رہنما۔ طویل عرصے تک عرب ممالک مصر ہی کی جانب دیکھا کرتے تھے۔ مصر ہوگیا عرب دنیا کا لیڈر۔ بہت خوب! استقلال اور حریت پسندی کی لہر اس ملک میں ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ البتہ ان کو کچھ زیادہ اچھے مواقع نہیں مل پائے؛ سوائے ایک مختصر مدت کے۔ یہ پہلا ملک تھا یا سب سے بڑا ملک تھا جو شام کے ساتھ مل فلسطین کے مسئلے پر میدان جنگ میں کود پڑا۔ دوسرے اسلامی ممالک میں سے کوئی بھی اسرائیل کے ساتھ ہونے والی ان چند جنگوں میں، داخل نہیں ہوئے۔ مصر نے اپنے سپاہی، اپنی فوج، اپنے عوام، اپنے ریزورز کو جنگ میں جھونکا؛ البتہ وہ کامیاب نہیں ہوئے؛ ایک بار ١٩٦٧ میں او رایک بار ١٩٧٣ میں۔ مصر ایسا ملک ہے۔ لہذا مصر کو فلسطینیوں کی پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا؛ بلکہ بہت سے دوسرے ملکوں کے انقلابیوں کے لیے بھی مصر پناہ گاہ تھا کہ وہاں چلے جاتے تھے۔
حسنی نامبارک کے بے برکت کرتوت
اس قسم کا ایک ملک تیس برسوں سے ایسے ہاتھوں میں چلا گیا ہے جو نہ صرف یہ کہ حریت پسند نہیں ہے بلکہ حریت پسندی کا دشمن ہے؛ نہ صرف یہ کہ صیہونزم کا مخالف نہیں ہے بلکہ اس کا ساتھی، معاون، امانتدار اور ایک اعتبار سے صیہونیوں کا نوکر ہے۔ وہ ملک کہ جہاں لہراتا ہوا صیہونزم کے خلاف جہاد کا پرچم عرب دنیا کو دعوتِ فکر دیتا تھا، اس کا یہ حال ہوگیا کہ اسرائیلی اور صیہونی دشمن فلسطینیوں کے خلاف جو بھی کام کرنا چاہتے تھے، اس میں اسی نامبارک کی مدد پر اعتماد کرتے تھے، اس نے ان کی مدد کی۔
غزہ کے مسئلے میں اگر حسنی مبارک اسرائیلیوں کی مدد نہ کرتا، تو وہ غزہ کا محاصرہ نہیں کر سکتے تھے۔ فلسطینی غزہ میں محصور تھے ۔۔ آج چار سال ہوچکے ہیں وہ محاصرے میں ہیں ۔۔ بائیس روزہ جنگ میں ان کے مرد، عورتیں اور بچے اسرائیلی آگ میں جھلس گئے، تباہ ہوگئے، ان کے گھر ویران ہوگئے؛ لیکن اجازت نہ دی کہ کمک پہنچانے والے قافلے ان کی مدد کرسکیں۔ نہ صرف مصر سے بلکہ دوسرے ممالک بھی چاہتے تھے کہ مصر سے گزریں ۔ منجملہ ہمارے اپنے لوگ ۔۔ چاہتے تھے کہ جاکر ان کو مدد پہنچائیں، لیکن حسنی مبارک نے اجازت نہیں دی۔ مصر پر کچھ ایسی صورتحال چھائی ہوئی تھی۔ تو ان لوگوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔
مصری عوام کی خواہش
مصری عوام اپنی موجودہ حکومت کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے، امریکہ کی مکمل کاسہ لیسی کے سبب سے احساسِ ذلت کرتے ہیں، احساسِ حقارت کرتے ہیں۔ اس تحریک کا اصل عامل یہی ہے۔ یہ لوگ مسلمان ہیں۔ تحریک کا آغاز نمازِ جمعہ سے ہوتا ہے، مساجد سے شروع ہوتی ہے۔ نعرے ''اللہ اکبر'' کے ہیں۔ لوگ دینی نعرے لگا رہے ہیں اور مضبوط ترین جدوجہد کرنے والے گروہ اسلامی ہیں۔ (آج) مصر والے چاہتے ہیں کہ اس ذلت کے داغ کو دھو ڈالیں؛ یہ ہے سبب۔
مصر کی اقتصادی حالت
اہلِ مغرب اجازت نہیں دیتے کہ ملتوں کے درمیان اور دنیا کی رائے عامہ میں یہ تجزیہ رواج پائے؛ ہمیشہ اشارہ کرتے ہیں اقتصادی مسائل کی جانب۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے حسنی مبارک جیسے شخص کی امریکہ کی نوکری بھی مصر کو ایک قدم ترقی کی جانب نہ لے جاسکی۔ سات کروڑ سے کچھ زیادہ کی آبادی میں سے چالیس فیصد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارتے ہیں! خود قاہرہ شہر میں، جیسا کہ میرے پاس مسلمہ رپورٹیں موجود ہیں، کئی لاکھ لوگ ۔۔ البتہ میں نے دو تین ملین بھی سنا ہے، لیکن قدرِ مسلم یہ ہے کہ کئی لاکھ انسان ۔۔ قاہرہ کے قبرستانوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ بے گھر، جنگل و بیابان میں رہنے والے، جاکر قبرستانوں میں پناہ لیتے ہیں۔ لوگ معیشت کی سختیوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یعنی امریکیوں نے اس نوکری کے بدلے میں کوئی مزدوری بھی نہیں دی۔
حسنی مبارک کی پناہ گاہ
آج بھی اسے کچھ نہیں ملے گا۔ آج بھی جب وہ مصر سے فرار ہوگا اور ۔۔ بہ امید خدا ۔۔ وہاں سے نکلے گا، تو یاد رکھے کہ جو پہلا دروازہ اسے بند ملے گا وہ امریکہ کا دروازہ ہوگا۔ آنے نہیں دیں گے؛ جیسا کہ بن علی کو نہیں آنے دیا، جیسا کہ محمد رضا (شاہ) کو نہیں آنے دیا۔ یہ اس طرح کے لوگ ہیں۔ جن لوگوں کے دل امریکہ کے ساتھ دوستی و رفاقت اور امریکہ کی اطاعت کے لیے دھڑکتے ہیں، ان مثالوں کو دیکھ لیں۔ یہ لوگ شیطان کی مانند ہیں۔ صحیفۂ سجادیہ کی دعا میں ارشاد ہوا: شیطان جب مجھے فریب دیتا ہے، پھر دوسری طرف دیکھنے لگتا ہے۔ میرے (رہبر کے) الفاظ میں، مجھ پر ہنستا ہے، میری طرف پیٹھ پھیر لیتا ہے، مجھ سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ یہ اس قسم کے لوگ ہیں۔ امریکی ان جیسے حقیر اور کمزور لوگوں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی بدحواسی
البتہ آج امریکی بہت زیادہ بدحواس ہیں؛ اسرائیلی ان سے بھی زیادہ بدحواس ہیں۔ مصر کے معاملے میں، کسی علاج کی تلاش میں ہیں؛ کوئی چارۂ کار ملے گا بھی نہیں۔ دھوکہ دینا چاہتے ہیں؛ عوام کی حمایت کا دم بھرنے لگے ہیں۔ اب بتایا گیا ہے کہ امریکیوں نے بھی اس سے کہا ہے کہ جلد از جلد ہٹ جاؤ اور چلے جاؤ۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مصر کے لوگ کیا کرتے ہیں اور کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
میں نے کچھ باتیں عرب بھائیوں کے لیے لکھی ہیں (اب) انہیں پڑھتا ہوں۔